شعلہ بر چراغ

شعلہ بر چراغ

PoemShola Bar Charag

<p>جب میں نے خود سے پہلو پایا ہوا کر تھا</p> <p>میں نے سب آنکھیں کم کر دی تھیں</p> <p>لکن آپ دو اور دو زیب ہو بھی نہیں</p> <p>ایک مٹف چینی کے ساتھ۔</p> <br/> <p>شعلہ ہوں، چراغ ہوں</p> <p>جلتا ہوں تو روشن کرتا ہوں</p> <p>بجھتا ہوں تو اندھیرا چھوڑتا ہوں</p> <p>یہی میری کہانی ہے۔</p> <br/> <p>لیکن وہ جو دیکھتا ہے</p> <p>وہ جانتا ہے کہ شعلہ</p> <p>بجھنے کے بعد بھی گرم رہتا ہے</p> <p>راکھ میں بھی آگ ہوتی ہے۔</p>