نثر نظم — سوم

Prose Verse

<p>وقت کی قدر کرو کیونکہ یہ لوٹ کر نہیں آتا۔ ہر لمحہ ایک انمول خزانہ ہے جو ہاتھ سے نکل رہا ہے۔</p> <br/> <p>ہم اکثر یہ سوچ کر وقت ضائع کرتے ہیں کہ کل بھی یہی موقع ملے گا۔ لیکن کل کا کیا بھروسہ؟ آج جو ہے وہ کل نہیں ہوگا۔</p> <br/> <p>اس لیے آج کو گلے لگاؤ، آج کی خوشیاں چنو، آج کے لمحات کو یادگار بناؤ۔</p>